Monday, March 23, 2015

کھرا سچ کیا ہے؟ قلم فروش لقمان مبشر کا کھرا سچ



کھرا سچ کیا ہے؟پاکستان میں صحافت جتنی سستی فروخت ہوتی ہے اتنی اور کوئی جنس فروخت نہیں ہوتی۔ آج ایک ایسے ہی بکاؤ  ٹی وی چینل  اے آر وائی پر کھرا سچ نامی پروگرام کرتے ہوئے شائد پاکستان کی تاریخ کے سب سے لچے اور گھٹیا نام نہاد صحافی نے جو کچھ کہا اسے کم سے کم الفاظ میں بکواس ہی کہا جا سکتا ہے لیکن محض بکواس کہہ کر  اسے ایسی ہی اور بکواسوں کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی۔
متحدہ قومی موومنٹ اور اسکے ذمہ داران کی جانب سے اس پر کیا ردعمل سامنے آتا ہے یہ تو بعد کی بات ہے لیکن ایک عام پاکستانی کے ذہن میں جو سوال پیدا ہورہے ہیں ان کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ  بے حیائی اور بے غیرتی کے چلتے پھرتے  کرداروں کو  جوخفیہ ایجنسیوں کی چاکری میں اپنی آل اولاد اور ماں بہن کو بھی بیچ دینے سے دریغ نہیں کرتے اور جو قلم فروشی کرتے کرتے اپنے جامے سے باہر آنے لگتے ہیں ان کا مکروہ چہرہ آیئنے میں دکھا دیا جائے۔
اس پورے پروگرام کو دیکھنے والوں کے ذہنوں میں جو سوالات پیدا ہوئےان تمام سوالات کو ہم یہاں ترتیب وار درج کرتے ہیں۔
ابتدا میں پروگرام کا بنیادی نکتہ یہ بنایا گیا تھاکہ جناب الطاف حسین کا ناجائز اسلحہ کمبلوں میں لپیٹ کر لانے کا دعوی جھوٹا ہے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ پروگرام میں جو ویڈیو کلپس دکھائی گیئں ان سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ اسلحہ باہر سے نہیں لایا گیا تھا؟ اسی بات کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ کلپس الطاف حسین کے دعوے کو کس طرح جھوٹا ثابت کرتی ہیں؟کیا رینجرز کی پوری نقل و حرکت ان ویڈیو کلپس میں موجود ہے؟ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ جس وقت یہ ویڈیو ریکارڈ ہورہی تھی اس وقت کمبل میں لایا جانے والا اسلحہ اس جگہ نہیں پہنچایا جا رہا تھا جہاں سے اسکی برآمدگی دکھائی گئی ؟
اسکے بعد سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس بات کو کیسےثابت کیا جائے گا کہ ان ویڈیوز میں سے کچھ حصے نکال نہیں دیئے گئے یا ان میں کچھ تحریف یا ایڈیٹنگ نہیں کی گئی؟ ہم اگر یہ دعوی کرتے ہیں کہ کئی لوگوں کو جنہیں نائن زیرو سے بر آمد کرنے کا دعوی کیا جا رہا ہے رینجرز اپنے ساتھ لائے تھے  تو یہ بڑی آسان بات ہوگی کیونکہ سو سے زائد افراد پر مشتمل رینجرز حملہ آور ہوتی ہے تو کیا یہ اتنے عقلمند ہونگے کہ خورشید میموریل میں صرف دو افراد ہی گھسیں گے؟ کیا باقی اپنے ساتھ لائے ہوئے ان لوگوں کو جو پہلے سے پکڑے ہوئے تھے مختلف جگہوں پر کھپاتے نہیں رہے ہونگے؟
  اس کے بعد ہم اپنی بات کی سچائی میں تو بہت بڑا ثبوت پیش کر سکتے ہیں جسے قانون بھی وزن دے گا اور عدالتیں بھی اسے وزن دیں گی۔ وہ یہ کہ  اگر آپ کو اتنے بڑے پیمانے پر اسلحے کی اطلاع تھی اور اتنے اہم ملزمان کی وہاں موجودگی کی خبر تھی تو آپ اپنے ساتھ مجسٹریٹ کو کیوں نہیں لیکرگئے؟ یہاں جناب الطاف حسین کی بات صحیح ثابت ہوجاتی ہے کہ اسلحہ کمبلوں میں لپیٹ کر لایا گیا تھا۔ اور مجسٹریٹ کو  اسی لئےساتھ نہیں رکھا گیا کہ پھر رینجرز کی اس مجرمانہ حرکت کو چھپایا نہیں جا سکتا تھا۔ یہاں آپریشن کی بدنیتی ثابت ہوجاتی ہے کہ وہ کراچی سے دہشتگردی ختم کرنے کیلئے نہیں بلکہ کراچی سے مہاجروں کو ختم کرنے کیلئے کیا جا رہا ہے اور یہ بھی کہ اس ٹاسک کو کامیابی سے مکمل کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے بشمول صحافیوں کو خریدنے اور میڈیا کو دباؤ ڈال کر اپنی مرضی کے مطابق پروگرام کرنے کے۔
آگے چلتے ہیں! ان ویڈیو کلپ میں سے ایک خورشید میموریل کے استقبالئے کی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ ویڈیو  ثابت کرتی ہے کہ رینجرز کے ساتھ پورا تعاون کیا گیا اور کوئی مزاحمت نہیں ہوئی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہاس عمارت میں کوئی غیر قانونی کام نہیں ہورہا تھا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہاں ضرورہلچل بھی ہوتی، مزاحمت کا بھی امکان تھا اور وہاں موجود کارکنان اتنے مطمئن نہ نظر آتے۔ یہ لوگ اسی لئے مطمئن تھے کہ وہاں کوئی غلط کام نہیں ہورہا تھا۔ اس کے بعد جو اہم سوال ابھرتا ہے وہ یہ کہ یہاں حملے کے بعد رینجرز نے تمام کیمرے بند کردیئے تھے اور ان کا ریکارڈ اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ یہ فوٹیج جو رینجرز کے قبضے میں تھیں اس قلم فروش شخص کو کیسے ہاتھ آیئں؟ کیا اب س بات میں کوئی شبہ رہ جاتا ہے کہ ایم کیو ایم کی مخالفت میں رینجرز سمیت تمام  ایجنسیز اس حد تک جا چکی ہیں کہ صحافیوں کی صفوں میں سے کالی بھیڑوں کو خرید کر ان سے پروگرام کروا رہی ہیں؟ کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ ایم کیو ایم اور مہاجر عوام کو سرکاری سرپرستی میں کچلا جا رہا ہے؟ کیا اس سے مہاجر عوام میں ملک سے لا تعلقی کا احساس پیدا نہیں ہورہا ہے؟ اسکے بعد ہم اس فوٹیج کی بات کرتے ہیں جو کسی گھر میں بنی ہوگی اور جہاں ایک شخص کو اور اسکی غالبا بیوی کو دکھایا گیا تھا۔ یہاں ایک  شخص کیمرہ لئے ویڈیو بناتا رہا۔ یہ ویڈیو تو بالکل منہ پر ہی رکھ کر بنائی گئی تھی اور ایسے وقت میں جب رینجرز چھاپہ ماررہی تھی تو یقینی طور پر کسی اسکے ہی آدمی نے بنائی ہوگی۔ ہم اس بات کو چھوڑ دیتے ہیں کہ کسی کے گھر میں گھس کر اس کےچادر اور چاردیواری کے حق کو کس طرح مجروح کیا گیا۔ ہم یہ پوچھتے ہیں کہ اگر یہ ویڈیو جو یقینی طور پر رینجرز نے بنائی تھی اسے قلم فروش لقمان کے حوالے کیوں کیا گیا؟ جواب صاف ظاہر ہے کہ قلم فروش کو رینجرز نے مہاجروں کے خلاف اپنی مہم میں خرید لیا ہے کیونکہ شائد مارکیٹ میں یہی سب سے سستا مل سکا تھا۔
یہاں ایک اور سوال بھی ضمنی طور پر شامل کر لیتے ہیں وہ یہ کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں اتنا خطرناک اسلحہ وہاں ذخیرہ کیا گیا تھا تو کیا یہ کسی آرم کلیکٹر نے محض اپنا شوق پورا کرنے کیلئے رکھا تھا؟ کیا یہ کسی کا مشغلہ تھاجیسا کہ کوئی نادر اشیاء جمع کرنے کا شوق رکھتا ہے کوئی ڈاک ٹکٹ استعمال کرنے کا مشغلہ اپناتا ہے وغیرہ۔ اور اگر ایسا نہیں تھا بلکہ یہ ریاست سے لڑنے کیلئے تھا تو اسے استعمال کیوں نہیں کیا گیا جب کہ ایسے ارادے کی صورت میں تو رینجرز کی جانب سے شب خون مارنے پر اس کو استعمال کیا جانا چاہئے تھا۔پھر اسے کیوں استعمال نہیں کیا گیا؟
مزید آگے چلتے ہیں! عامر خان کے اس اعترافی بیان کی کاپی جو ابھی خود رینجرز کی جانب سے بھی ریلیز نہیں کیا گیا کس طرح قلم فروش لقمان کو حاصل ہوجاتی ہے؟ کیا یہ کاپی خود رینجرز نے اسلئے قلم فروش لقمان کو نہیں دی کہ جب اگلے روز وہ اس اعترافی بیان کو ریلیز کریں تو عوام کے ذہن پہلے سے ہی اسے سچ ماننے پر تیار ہوں؟ کیا یہ بھی اس بات کا ثبوت نہیں کہ رینجرز اور ریاست مہاجر عوام کو ہر قیمت پر کچل دینے کا ارادہ کر چکی ہے؟ کیا رینجرز کو اور دیگر ایجنسیز کو یہ نہیں معلوم کہ کراچی بے وقوفوں اور ان پڑھ لوگوں کا شہر نہیں ہے جنہیں ایسے ہتھکنڈوں سے بیوقوف بنا دیا جائے؟

ابھی  ہم نےاس پروگرام کاپوری طرح پوسٹمارٹم نہیں کیا ہے۔ اسپر ہمارےپاس ابھی اس سے زیادہ اہم باتیں ہیں جنہیں ہم   ابھی سامنے نہیں لایئں گے  تاکہ اس دوران اس شیطان صفت قلم فروش  کا دوران خون اوپر نیچے ہوتا رہے ۔ لیکن ایک بات ضرور اپنے اداروں سے دریافت کریں گے کہ آج یوم پاکستان کے موقعے پر اندرون سندھ میں قوم پرستوں نے ریلیاں نکالیں جن میں کھلے عام پاکستان کو گالیاں دی گیئں اور پاکستان توڑنے اور سندھو دیش قائم کرنے کے نعرے لگے۔ کیا کھرا سچ والوں کو ان پر بات کرنے کیلئے کوئی رقم نہیں دی گئی تھی؟
کھرا سچ کیا ہے؟ کھرا سچ تو یہ ہے کہ  ایک شخص  جورقم اور مراعات کیلئے اپنے قلم کی حرمت فروخت کر سکتا ہے وہ اپنی بیٹی اور بہن کو بھی رقم اور عیاشی کی خاطربآسانی فروخت کرنے پر تیار ہوجاتا ہوگا ۔ اور دوسرا کھرا سچ یہ ہےکہ جسکی گھٹی میں حرام شامل  ہو اور اسکے باپ نے ساری عمر حرام کھلایا ہو یا کم از کم کھانے سے نہ روکا ہو وہ حرام کےلئے ہر کام کر سکتا ہے۔

No comments:

Post a Comment